پٹنہ،15/فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں گزشتہ سال آبی جماؤ کی وجہ زیادہ بارش نہیں بلکہ افسران کی لاپرواہی سے ہوا تھا، یہ بات تفتیشی ٹیم کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق افسران کی لاپرواہی سے نالے جام ہوگئے تھے جس کی وجہ سے آبی جماو ہوا۔
رپورٹ سامنے آنے کے بعد نتیش کمار نے تین افسران کو معطل کر دیا ہے جس میں ایک آئی اے ایس آفسر بھی شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ جن آفسران کو سسپنڈ کیا گیا ہے اُس میں اُس وقت کے بہار اربن انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر امریندر کمار سنگھ (آئی اے ایس) بھی شامل ہیں۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق دیگر دو معطل کئے جانے والے آفسران میں شیلیش کمار اور وریندر کمار ترون بھی شامل ہیں، جو اُس وقت کے پٹنہ میونسپل کارپوریشن (پی ایم سی) کے ایکزی کوٹیو آفسرس تھے۔
جس ٹیم نے تحقیقات کی ہے، اس کی قیادت ریاست کے دیولپمنٹ کمشنر ارون کمار سنگھ کر رہے تھے اور اس میں ریاست کے کمشنر ایس سدھارتھ اور توانائی سیکرٹری امرت بھی شامل تھے۔تفتیشی ٹیم نے اپنی جانچ میں انتظامی سطح پر کئی خامیاں پائی تھیں۔انکوائری رپورٹ کے مطابق جن پمپ ہاؤس سے آبی نکاسی کا کام ہونا تھا، وہاں وقت پر ڈیزل کی فراہمی نہیں کی گئی تھی۔اس کے علاوہ پمپ سیٹ خراب تھے اور بجلی کی فراہمی کا بندوبست نہیں تھا، نہ ہی کافی تعداد میں صفائی ملازم تعینات کئے گئے تھے۔اس جانچ میں پٹنہ میونسپل کے کئی افسران کو غفلت کا مجرم پایا گیا تھا۔وہیں بڈکو کے منیجنگ ڈائریکٹر بھی جانچ کے دوران بہت سے سوالات کے صاف صاف جواب نہیں دے پائے تھے۔اس جانچ رپورٹ کی ایک کاپی پٹنہ ہائی کورٹ میں بھی دی گئی ہے، جہاں سیلاب کی وجوہات اور قصورواروں کے خلاف ہوئی کارروائی کے بارے میں ریاستی حکومت سے پوچھا گیا ہے۔ حالانکہ بہار انتظامی سروس یونین نے اس کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے پورے معاملے کی عدالتی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔یونین کا کہنا ہے کہ کارروائی سے پہلے معطل افسران کو اپنا موقف رکھنے کا مناسب وقت نہیں دیا گیا۔